1 اپریل 2013 - 19:30

پشاور کے علاقہ بڈھ بیر میں گزشتہ رات نامعلوم شدت پسندوں کی جانب سے واپڈا کے دفتر اور گرڈ اسٹیشن پر حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے 8 افراد کی لاشیں قریبی میدان سے مل گئی ہیں جبکہ ابھی بھی کم از کم 4 افراد لاپتہ ہیں۔

ابنا: صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے بُڈھ بیر میں پیر اور منگل کی درمیانی شب نامعلوم شدت پسندوں کی جانب سے ایک گرڈ اسٹیشن پر راکٹ حملہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق شدت پسندوں نے شیخ محمد کے علاقے میں واقع 500 کے وی گرڈ اسٹیشن پر سات راکٹ فائر کیے جس سے گرڈ اسٹیشن میں آگ لگ گئی اور وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایس ڈی او سمیت واپڈا کے پانچ ملازمین اور ڈیوٹی پر مامور پشاور پولیس کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ چار واپڈا آفیشل لاپتہ بھی ہیں۔
بڈھ بیر پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس افسر گران اللہ نے بتایا کہ گزشتہ رات تقریباً 40 شدت پسندوں نے پیچھے سے گرڈ اسٹیشن پر حملہ کیا اور دیواروں کو دھماکے سے اڑانے کے بعد گرڈ اسٹیشن میں داخل ہو گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں نے راکٹ بھی فائر کیے جس کے بعد پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان کچھ دیر تک فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ پانچ واپڈا آفیشلز اور تین پولیس اہلکاروں کی لاشیں مل گئی ہیں تاہم ابھی بھی چار واپڈا آفیشلز لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
یاد رہے کہ پشاور ایک عرصے سے طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کی جانب سے حملوں کی زد میں ہے جہاں شدت پسند آئے روز دہشت گردی کی وارداتیں کر کے حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔
گزشتہ جمعہ پشاور میں سیکیورٹی چیک پوسٹ کے قریب ایک خودکش بمبار نے ایف سی کے کمانڈر عبدالمجید مروت کے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ایف سی کمانڈر کا قافلہ تو اس حملے میں محفوظ رہا تاہم واقعے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242